ابنا: جنرل ایلن نے افغانستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جو صدر کرزئي کی صدارت میں منعقد ہوا معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اس حملے میں مرنے ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔ اس اجلاس میں صدر کرزئي نے ایک بار پھر رات کوکئے جانے والے حملوں کے خاتمے اور لویہ جرگہ کے فیصلے پر عمل درامد کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے صوبہ پکتیا میں امریکی فوج نے رات میں انسداد منشیات کے ادارے کے سربراہ حفیظ اللہ کے گھر پر حملہ کرکے انہیں اور ان کے دو بیٹوں کو اغوا کرلیا تھا۔ اس اجلاس میں امریکی جنرل نے کہا کہ دوہزار چودہ کے بعد بھی کچھ امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔
دوسری جانب نیٹو کے ترجمان جنرل گرسٹن جیکبسن نے افغانستان میں رات کے حملے جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کو ہلاک اور گرفتار کرنے کے لیے نیٹو کے حملے ضروری ہیں۔
.......
/169